مشرقی ڈی آر کانگو کے اسکولوں میں آگ سے 14 بچے ہلاک، تنازع زدہ علاقوں میں بچوں کی سلامتی کا بحران نمایاں
الجزیرہ کے مطابق جمہوری جمہوریہ کانگو کے مشرق میں کئی اسکولوں میں آگ لگنے سے حکام کے مطابق کم از کم 14 بچے ہلاک ہوئے۔ آگ لگنے کی وجہ اور واقعے کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔ یہ خطہ طویل عرصے سے مسلح تنازعات کا شکار ہے، جہاں اسکولوں سمیت شہری تنصیبات بار بار متاثر ہوتی ہیں، جس سے بچوں کی سلامتی ایک بار پھر تشویش کا موضوع بن گئی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق جمہوری جمہوریہ کانگو کے مشرق میں کئی اسکولوں میں آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آتش زدگی کے نتیجے میں کم از کم 14 بچے ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق آگ نے علاقے کے متعدد اسکولوں کو متاثر کیا، تاہم آگ لگنے کی وجہ، واقعے کی مکمل تفصیلات اور حتمی ہلاکتوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی، اس لیے مزید معلومات کی تصدیق ابھی باقی ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو کا مشرق طویل عرصے سے مسلح تنازعات کی زد میں ہے، جہاں متعدد مسلح گروہ سرگرم ہیں اور اسکولوں، اسپتالوں سمیت شہری تنصیبات کو بارہا جنگ کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اس آگ کی وجہ ابھی معلوم نہیں، یہ سانحہ ایک بار پھر تنازع زدہ علاقوں میں بچوں کی انتہائی نازک حالت کو نمایاں کرتا ہے۔ بچے اپنی حفاظت کی سب سے کم صلاحیت رکھنے والا گروہ ہیں اور جنگ زدہ ماحول میں انہیں غیر معمولی سلامتی کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اسکول بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ شہری مقامات ہیں، مگر غیر مستحکم علاقوں میں انہیں مختلف فریقوں کے تشدد کی قیمت بار بار چکانا پڑتی ہے، جو شہریوں کے تحفظ کے نظام کی ناکامی کو مزید عیاں کرتا ہے۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو مشرقی کانگو میں برسوں سے جاری بدامنی اور شہری ہلاکتوں کے مقابلے میں ملنے والی بین الاقوامی توجہ اور عملی مداخلت کے درمیان ایک مسلسل اور نمایاں خلا موجود ہے۔ جب ایسے سانحات مغربی فیصلہ ساز مراکز اور تزویراتی ترجیحات سے دور حاشیائی علاقوں میں پیش آتے ہیں تو متاثرین، خصوصاً بچے، کی فریاد طاقت کی غیر مساوی عالمی تقسیم میں اکثر منظم طور پر دب جاتی ہے۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔