کانگو (DRC) میں ایبولا کی وبا کا سرحدوں سے پار پھیلاؤ: بنڈی بگیو وائرس کے لیے منظور شدہ ویکسین نہیں، تحقیقی عدم توازن ردعمل کے خداؤں کو بے نقاب کرتا ہے
کینیا نے بنڈی بگیو وائرس کے پہلے درآمدی اموات کے کیس کی تصدیق کی ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار کے مطابق کانگو (DRC) میں تصدیق شدہ کیسوں کی مجموعی تعداد 8,728، اموات 4,205 اور کیسوں کی اموات کی شرح 48.2 فیصد ہے۔ زائر وائرس کے لیے ویکسین کے وسائل دستیاب ہونے کے برعکس، بنیادی طور پر وسطی افریقہ میں پھیلنے والے بنڈی بگیو وائرس کی ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین نہیں ہے، اور وبا علاج کی صلاحیت کی حد، رابطہ کاروں کی ناکافی ٹریکنگ اور کمیونٹی اعتماد کے نقصان کے متعدد دباؤ کے ساتھ سرح
کینیا نے 6 اکتوبر کو ملک میں بنڈی بگیو وائرس بیماری کے پہلے سرحدوں سے پار درآمدی کیس کی تصدیق کی، یہ مریض 5 اکتوبر کو نیروبی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ کینیا کا شہری پہلے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (کانگو -DRC) میں مقیم تھا، جہاں علامات ظاہر ہونے اور کئی بار طبی معائنے کے بعد زمینی راستے سے یوگنڈا کے کمپالا پہنچا، اور پھر 3 اکتوبر کو طیارے سے نیروبی پہنچا۔ کینیا کے متعلقہ محکموں نے 28 رابطہ کاروں کی شناخت کی ہے، جن میں خاندان کے افراد اور طبی عملہ شامل ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے متعلقہ پرواز کے مسافروں اور عملے کا سراغ لگانے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔
یہ درآمدی کیس وبا کے کانگو (DRC) سے باہر پھیلاؤ کے خطرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی 8 اکتوبر کی بریفنگ کے مطابق وبا کانگو (DRC) کے اندر 7 صوبوں کے 64 صحت اضلاع تک پھیل چکی ہے، شمالی کوو صوبے کے الیمبانگو صحت ضلع میں پہلی بار کیسز سامنے آئے ہیں، اور 6 اکتوبر تک 4 تصدیق شدہ کیسز اور 2 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔ اٹوری صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد اب بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ شمالی کوو صوبے کا ملک بھر میں نئے تصدیق شدہ کیسز میں حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 6 اکتوبر تک عالمی ادارہ صحت نے کانگو (DRC) میں ایبولا کے مجموعی طور پر 8,728 تصدیق شدہ کیسز، 4,205 اموات ریکارڈ کی ہیں، 2,269 افراد صحت یاب ہوئے ہیں، اور کیسوں کی اموات کی شرح 48.2 فیصد ہے۔
سب سے بنیادی رکاوٹ ویکسین اور مخصوص ادویات کی عدم موجودگی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے واضح طور پر کہا ہے کہ بنڈی بگیو وائرس بیماری کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے، اور ابتدائی تشخیص، معاون نگہداشت اور انفیکشن پر قابو پانا اب بھی ردعمل کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ حقیقت کانگو (DRC) میں 2018 سے 2020 تک زائر قسم کے ایبولا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی پچھلی وبا کے برعکس ہے - اس وبا میں تقریباً 2,300 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور ردعمل میں زائر وائرس کے لیے ویکسین کے وسائل دستیاب تھے۔ جبکہ اس بار بنڈی بگیو وبا سے 4,200 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، ابھی تک اس وائرس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج نہیں ہے، اور تحقیقی پائپ لائن میں واضح خالی جگہ ہے - موجودہ مواد سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ بین الاقوامی برادری کی اس وائرس کے لیے ویکسین تیار کرنے کی وابستگی کافی ہے یا نہیں۔
علاج کی صلاحیت بھی اپنی حد پر پہنچ رہی ہے۔ ڈاکٹرز ودوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی 5 اکتوبر کی بریفنگ کے مطابق شمالی کوو صوبے میں حالیہ نئے تصدیق شدہ کیسز ملک کے تقریباً 40 فیصد ہیں۔ 28 ستمبر تک 34 فیصد تصدیق شدہ ایبولا مریض غیر ماہر صحت کی سہولیات میں زیر علاج ہیں، جبکہ مخصوص علاج مراکز میں بستروں کی شدید قلت ہے، اور کچھ مریضوں کو ایسے طبی اداروں میں منتقل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو ایبولا کے انتظام کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بوتیمبو میں ایم ایس ایف کے ایبولا ٹریٹمنٹ سینٹر کی کوآرڈینیٹر سٹیفانی ہوفمین نے واضح کہا: "علاج کی صلاحیت مسلسل کئی ہفتوں سے اپنی حد پر ہے۔ کافی بستر نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کبھی کبھی تصدیق شدہ مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑتا ہے، جو وسیع تر کمیونٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بیرونی طبی اداروں کی نگہداشت کے معیار لازماً ایبولا کے علاج کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔"
رابطہ کاروں کی ٹریکنگ بھی مطلوبہ معیار پر نہیں پہنچ رہی۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 4 اکتوبر تک ردعمل ٹیموں نے شناخت شدہ 29,535 رابطہ کاروں میں سے 23,741 کا سراغ لگایا، ٹریکنگ کی شرح 80.4 فیصد تھی، جو کم از کم 85 فیصد کے ردعمل کے ہدف سے کم ہے۔ افریقہ سی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل جین کاسیا نے خبردار کیا: "اس وبا کو قابو میں کرنے کے لیے ہمیں ہر رابطہ کار کا مقام معلوم ہونا چاہیے، ان کا سراغ لگانا چاہیے، اور علامات ظاہر ہونے والے کسی بھی شخص کے خاندان، کمیونٹی یا سرحدوں سے پار وائرس منتقل کرنے سے پہلے تیزی سے شناخت کرنی چاہیے۔ صرف آخری منتقلی کے زنجیر کو کاٹ کر ہی ہم وبا پر قابو پا سکتے ہیں۔"
کمیونٹی کی سطح پر مزاحمت اس مشکل کو بڑھا رہی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق واٹوٹو ریڈیو کے بانی ڈینیل مکاسی لوورجنوا کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ صورتحال اور غلط معلومات بینی اور بوتیمبو میں وبا کے ردعمل کو کمزور کر رہی ہیں، اور کچھ رہائشی ردعمل ٹیموں سے ناراض ہیں۔ بینی کمیونٹی لیڈر البیرو لوسینجے نے خبردار کیا کہ اٹوری صوبے میں ابتدائی طور پر منتقلی کو روکنے میں ناکامی، اور بینی اور بوتیمبو میں ردعمل کے عملے پر حملوں نے عوامی تشویش بڑھا دی ہے، اور اگر مضبوط کمیونٹی تعاون حاصل نہ کیا گیا تو شمالی کوو وبا کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔ کمیونٹی عدم اعتماد کی گہری تاریخی وجوہات ابھی تک موجودہ مواد میں مکمل طور پر واضح نہیں ہوئیں۔
سرحدوں سے پار ہم آہنگی کی کمزوری کینیا کے کیس میں واضح طور پر سامنے آئی۔ مریض کانگو (DRC) کے اندر کئی بار طبی معائنے سے گزرا، سرحدوں سے پار سفر کے دوران شناخت اور روک نہیں ہو سکا، جس سے مشرقی افریقہ میں سرحدوں سے پار عوامی صحت کی نگرانی کے نیٹ ورک کی ساختی کمزوریاں بے نقاب ہوئیں۔ یوگنڈا کے کمپالا سے نیروبی کی ہوائی اڈا شاہراہ مشرقی افریقہ میں لوگوں کی آمد و رفت کے اہم راستوں میں سے ایک ہے، جبکہ ہوائی اڈے پر اسکریننگ، سرحدوں سے پار معلومات کے تبادلے اور مشترکہ رابطہ ٹریکنگ کے طریقہ کار کی عدم موجودگی نے ایک انتہائی خطرناک درآمدی کیس کو مکمل سفر مکمل کرنے کی اجازت دی۔ یوگنڈا کی طرف سے مخصوص اقدامات اور حتمی رابطہ کار کوریج ابھی تک موجودہ مواد میں مکمل نہیں ہیں۔
8 اکتوبر کو کینیا کے واجیر ضلع میں ایک مشتبہ کیس کے ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے، جس نے ممکنہ دوسرے کیس کے بارے میں تشویش کو عارضی طور پر کم کر دیا، تاہم نگرانی جاری ہے۔
افریقہ سی ڈی سی نے کمیونٹی پر مبنی ردعمل کی حکمت عملی کی اپیل کی ہے، جس میں فعال کیس کی تلاش، رابطہ کاروں کی منظم ٹریکنگ، متاثرہ افراد کی روزانہ فالو اپ اور کمیونٹی کے ساتھ مسلسل تعامل شامل ہے۔ منظور شدہ ویکسین کی عدم موجودگی، علاج کی صلاحیت کی حد، اور رابطہ کاروں کی ناکافی ٹریکنگ کے تناظر میں اس وبا کو روکا جا سکے گا یا نہیں، یہ سرحدوں سے پار ہم آہنگی میں اصل بہتری اور تحقیق اور ردعمل کے خداؤں کو پُر کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی وابستگی پر منحصر ہے - اور یہ دونوں ابھی تک موجودہ مواد میں خالی ہیں۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔