سری لنکا کی سپریم کورٹ نے بدھ مت کے سخت گیر راہب کی صدارتی معافی کالعدم قرار دے دی
دی ہندو کے بین الاقوامی ایڈیشن کے مطابق سری لنکا کی سپریم کورٹ نے سابق صدر میتھریپالا سری سینا کی مسلمانوں کے خلاف معروف راہب گناسا را کو دی گئی معافی کو ’من مانی‘ اور ’کالعدم‘ قرار دے دیا۔ لاپتا کارٹونسٹ کی بیوہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے دائر یہ چیلنج سات سال جاری رہا اور اس نے نفرت پر اکسانے والوں کو انتظامیہ کی سرپرستی کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔
دی ہندو کے بین الاقوامی ایڈیشن نے 10 ستمبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ سری لنکا کی سپریم کورٹ نے سابق صدر میتھریپالا سری سینا کی جانب سے مئی 2019 میں سخت گیر بدھ راہب گالاگوڈا اَتے گناسا را کو دی گئی صدارتی معافی کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اس انتظامی اقدام کو ’من مانی‘ (arbitrary) اور ’کالعدم و بے اثر‘ (null and void) قرار دیا۔ اس فیصلے نے سات سالہ عدالتی چیلنج کا اختتام کیا اور نفرت پر اکسانے والے کو انتظامیہ کی سرپرستی کو اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی جانب سے باضابطہ طور پر مسترد کر دیا۔
اس معافی کو کولمبو کی غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پالیسی آلٹرنیٹیوز (Centre for Policy Alternatives، مختصراً CPA) اور 2010 سے جبری طور پر لاپتا سیاسی کارٹونسٹ پرگیتھ ایکنالے گوڈا کی اہلیہ سندیا ایکنالے گوڈا نے چیلنج کیا تھا۔ سندیا کو گناسا را سے ذاتی طور پر گہرا صدمہ پہنچا تھا: جنوری 2016 میں یہ راہب اس مقامی عدالت میں گھس آیا تھا جہاں اس کے شوہر کی گمشدگی کا مقدمہ زیر سماعت تھا، اور اس خاتون کو کھلے عام دھمکایا تھا جو عدالت میں جواب کی تلاش کے لیے موجود تھی۔
گناسا را بدھسٹ پاور فورس (Bodu Bala Sena، مختصراً BBS) کا بانی ہے، جو 2012 میں قائم ہوئی تھی اور مسلمانوں مخالف بیانات اور متحرک کرنے کے لیے مشہور تھی۔ 2009 میں سری لنکا کی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد راہبوں کی قیادت میں ہونے والی اشتعال انگیزی سے مسلمانوں مخالف جذبات مسلسل بڑھتے گئے، اور گناسا را اور اس کی تنظیم اس رجحان کی نمایاں علامت بن گئے۔
2019 کی معافی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھی۔ دو سال بعد سری سینا کی جگہ لینے والے گوٹابایا راجاپاکسا نے گناسا را کو صدارتی قانونی اصلاحات کے ورکنگ گروپ میں شامل کر لیا، جس پر انسانی حقوق کے محافظوں نے شدید تنقید کی۔ 2024 میں کولمبو ہائی کورٹ نے 2016 کی اس پریس کانفرنس کے معاملے میں اسے چار سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی جس میں اس نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر اکسایا تھا، تاہم بعد میں اسے ضمانت مل گئی اور یہ واضح نہیں کہ اس نے حقیقتاً کتنی سزا کاٹی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسے سری لنکا میں دور رس اہمیت رکھتا ہے جہاں راہبوں کو خاصا مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اس نے یہ اصول تسلیم کیا کہ جب انتظامیہ ’معافی‘ کے نام پر عدالتی سزا کو نظر انداز کرے تو عدلیہ اسے کالعدم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ سندیا جیسے سول سوسائٹی کے کارکنوں نے سات سالہ قانونی کارروائی کے ذریعے ایک انتظامی فیصلے کو عدالتی نظرثانی کے دائرے میں پہنچایا اور سزا یافتہ نفرت انگیز کو صدر کے ہاتھوں حاصل ہونے والی استثنیٰ کی ڈھال سے محروم کر دیا۔ پرگیتھ 2010 سے جبری طور پر لاپتا ہے اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔