پہلے اسکول ک دن دروازے پر روکا گیا: چار سال فلسطینی بچی اور ایک ماہ سے جاری بستی والوں کا محاصرہ
الجزیرہ کی رپور کے مطابق، مغربی کنارے کے ایک فلسطینی گاؤں کو تقریباً ایک ماہ سے اسرائیلی بستی والوں نے محاصرے میں رکھا وا ہے، جس کی وجہ سے چار سال کنڈا حسن اپنی زندگی کے پہلے تعلیمی سال کا پہلا اسکول کا دن چوں بیٹی، جبکہ فلسطینی خاندان گھروں می محصور و کر رہنے پر مجبور ہیں۔
کنا حسن اس وقت چار سال کی ہیں اور یہ ان کی زندگی کے پہلے تعلیمی سال کا پہلا اسکول کا دن ہونا چایے تھا لیکن مغربی کنارے ک ایک فلسطینی گاؤں میں و اور ان کا خاندان تقریباً ایک ما سے اسرائیلی بستی والوں کے محاصرے میں یں اور اسکول جانے کے لیے باہر نیں نکل سکتیں۔
الجزیرہ کی نمائندہ نداء ابرایم کی رپورٹ کے مطابق، یہ محاصرہ ایک ماہ سے جاری ہے اور فلسطینی خاندان اپن مکانات میں محصور ہو کر رہنے پر مجبور ہیں۔ کنڈا حسن کی اسکول کی زندگی شروع ونے سے پہلے ی رک گئی۔ الجزیرہ کی یہ ویڈیو رپورٹ 9 ستمبر کو شائع کی گئی
الجزیرہ کی فوٹیج می کنڈا حسن اور ان کے خاندان کی موجودہ صورتحال قید کی گئی ہے، لیکن محاصرے کی مخصوص شکل، محاصرے میں حصہ لینے وال بستی والوں کی تعداد، اور اسرائیلی حکام کی اس عمل کے حوالے س جوابی کارروائی اور نفاذِ قانون کی صورتحال، دستیاب مواد میں واضح نہیں کی گئی۔
کنڈا حسن کا تجرب ایک طویل عرصے س قید کیے جانے والے تشدد کے تسلسل میں جڑا ہوا ے۔ مغربی کنارے ک مقبوض علاقوں می اسرائیلی بستی والوں کی جانب سے فلسطینی گاؤں کے محاصرے، راسا کرن، حملوں اور زمین پر قبضے کی تاریخ طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے، جس ک ریکارڈ اقوام متحدہ کے اداروں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مرکزی میڈیا کی کئی سالوں کی رپورٹس میں موجود ہی۔ اس صورتحال میں، سب سے بنیادی معمولات — اسکول جانا، روزمرہ کی آمد و رفت، گھر سے باہر نکلنا — بہت س فلسطینی خاندانوں کے لیے ایک طے شدہ حق نہیں بلک ایسی چیز ہے جس کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور جو اکثر چھین لی جاتی ہ۔
محاصرہ کب ختم ہوگا، کیا اسرائیلی حکام قانون کے نفاذ میں مداخلت کری گے، کنڈا حسن کب کلاس روم میں داخل ہو سکیں گی — یہ سوالات الجزیرہ کی موجودہ رپورٹنگ میں بغیر جواب کے ہیں۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔