دنیا اور سلامتی

ہمبرگ، گوانتانامو اور افغانستان: جرمنی کی "غیر مشروط یکجہتی" کی بیس سالہ قیمت

ڈوئچے ویلے کی ایک جائزہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ 9/11 کے اگلے دن جرمن چانسلر شرودر کی جانب سے کیے گئے "غیر مشروط یکجہتی" کے وعدے کس طرح ملک میں نگرانی کے اختیارات میں توسیع، افغانستان میں بیس سالہ فوجی مداخلت، اور جرمن شہری مراد کورناز کو گوانتانامو میں بغیر کسی ثبوت کے تقریباً پانچ سال تک قید رکھنے کی خاموش منظوری میں بدل گیا۔ جب 2021 میں طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالا تو جرمن فیڈرل فوج کے 59 اہلکاروں کی شہادت کا نتیجہ ایک ایسے انجام کی شکل میں نکلا جو نقطہ آغاز سے کم و بیش مماثل تھا۔

2 مرتبہ دیکھا گیامحفوظ کرنے کے لیے سائن اِن کریں
TRUTH ERA

اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی بیس سالہ افغانستان جنگ کا اس طرح خاتمہ ہوا۔ جرمن فیڈرل فوج کے 59 اہلکاروں کی شہادتیں، امریکی قیادت والے پورے مغربی اتحاد کے وعدوں اور اختیار کے ساتھ، کابل سے جلدی میں کیے گئے انخلاء کی تصویر میں محفوظ ہو گئیں۔

اس جنگ کا آغاز جرمنی کے شمالی شہر ہمبرگ کی ایک اپارٹمنٹ سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ڈوئچے ویلے کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق، 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں چار مشتبہ ہائی جیکرز میں سے تین واقعے سے پہلے ہمبرگ میں رہائش پذیر تھے، اور ان کی قیادت جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے والے مصری نژاد نوجوان محمد عطا کر رہے تھے، جنہوں نے مبینہ طور پر "ہمبرگ گروپ" تشکیل دیا۔ رپورٹ میں "معتقد ہے" جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس گروپ میں چھ اراکین شامل تھے، جن میں مراکشی نژاد منیر موتاسدق بھی تھا — جسے 2003 میں ہمبرگ کی اعلیٰ علاقائی عدالت نے "ہزاروں قتل میں معاونت اور دہشت گرد تنظیم کی رکنیت" کے جرم میں جرمن قانون کی اجازت دی گئی زیادہ سے زیادہ 15 سال قید کی سزا سنائی۔ عطا ہمبرگ کی الاقصیٰ مسجد میں عسکریت پسندی کے اثرات کی زد میں آیا تھا، اور اس مسجد کو بعد میں جرمنی کے سیکیورٹی اداروں نے بند کر دیا۔

حملے کے اگلے دن اس وقت کے جرمن چانسلر شرودر نے وفاقی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اگلے بیس سال کا سیاسی لہجہ طے کیا: "کل، 11 ستمبر 2001، ہم سب کے لیے ایک تاریک دن کے طور پر تاریخ میں درج ہوگا۔" انہوں نے پارلیمان کو بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر کو "جرمنی کی غیر مشروط — میں زور دیتا ہوں: غیر مشروط — یکجہتی" کی یقین دہانی کرائی ہے، اور حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے جرمنی کے پاس دستیاب ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اس سال 9/11 کے ہلاک شدگان 92 ممالک سے تھے، جن میں 11 جرمن شہری بھی شامل تھے۔

یہ وعدہ جلد ہی مقامی قانون سازی میں تبدیل ہو گیا۔ حملے کے چار مہینے سے بھی کم عرصے میں جرمنی کا "دہشت گردی مخالف قانون" نافذ ہوا، جس نے خفیہ اداروں کو بینکوں، ایئر لائنز اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے پاس موجود ذاتی ڈیٹا تک رسائی کا اختیار دیا، اور انہیں کسی مخصوص شبہ کے بغیر بڑے پیمانے پر ڈیٹا مائننگ اور موازنہ کی اجازت دی — جس کا مقصد عطا جیسے مبینہ "سوئے ہوئے ایجنٹوں" کی نشاندہی تھا۔

اختیارات کا یہ پھیلاؤ جلد ہی آئینی سرخ لکیر سے ٹکرا گیا۔ 2006 میں جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا کہ مخصوص خطرے کے بغیر بڑے پیمانے پر ڈیٹا مائننگ تلاش غیر قانونی ہے؛ 2013 میں سپریم کورٹ نے دوبارہ فیصلہ دیا کہ جرمنی کے دہشت گردی مخالف ڈیٹا بیس کا ایک حصہ آئین کے خلاف ہے۔ دونوں فیصلوں نے تسلیم کیا کہ 9/11 کے بعد منظور کیے گئے سیکیورٹی قوانین جرمنی کے بنیادی قانون میں ضمانت شدہ ذاتی حقوق کی حدود سے نمایاں طور پر تجاوز کر چکے ہیں۔

جبکہ سرحدوں سے باہر، گوانتانامو نے ایک اور طرح کی عدم مساوات کو بے نقاب کیا۔ جرمنی کے شہر بریمن میں پیدا ہونے والے ترک نژاد رہائشی مراد کورناز کو 2001 کے آخر سے امریکی فوج نے حراست میں لیا، اور گوانتانامو میں تقریباً پانچ سال تک قید رکھا، جہاں سے انہیں اگست 2006 میں رہا کیا گیا۔ ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق، پوری حراست کے دوران "اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وہ کسی دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھے"۔ کورناز نے بعد میں اپنے تجربات کو یادداشتوں میں قلمبند کیا، جنہیں 2013 میں ہم نام فلم میں ڈھال دیا گیا۔

مزید سیاسی اہمیت کی حامل بات جرمن حکومت کا اس سال کورناز کی وطن واپسی سے انکار کرنے کا فیصلہ تھا۔ جرمنی کی وفاقی اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی نے اس معاملے پر اس وقت کے وزیر خارجہ سٹائن مئیر — جو موجودہ جرمن صدر ہیں — سے پوچھ گچھ کی۔ سٹائن مئیر نے گواہی دیتے ہوئے تسلیم کیا: "کسی کو شک نہیں ہے، مجھے خود بھی شک نہیں ہے، کہ کورناز نے گوانتانامو میں شدید تکلیف برداشت کی۔" لیکن انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ وفاقی حکومت کا "اپنے ملک کی حفاظت کو یقینی بنانے کا بھی فرض ہے"۔ اس تحقیقاتی کمیٹی کے حتمی نتائج کو ڈوئچے ویلے کی رپورٹ میں واضح نہیں کیا گیا۔

شرودر کے "غیر مشروط یکجہتی" کے اظہار کے تین مہینے سے بھی کم عرصے بعد، جرمنی نے دسمبر 2001 میں امریکی قیادت والی افغانستان جنگ میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ یہ جنگ پورے بیس سال جاری رہی، اور بالآخر اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ختم ہوئی۔ جرمن صدر جوہانس راؤ نے 9/11 کے دن کہا تھا کہ "اس دن نے دنیا بدل دی" — لیکن جب امریکی فوج نے جلدی میں انخلاء کیا اور طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالا، تو اس "تبدیلی" کا کابل اور برلن دونوں کے لیے کیا مطلب ہے، یہ آج بھی ایک حل طلب سوال ہے۔

ڈوئچے ویلے کی رپورٹ میں کورناز کے گوانتانامو کے دورانے میں ہونے والے سلوک کی آزادانہ تصدیق شدہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اور معلومات بنیادی طور پر ان کی اپنی یادداشتوں اور 2013 کی ہم نام فلم سے ماخوذ ہیں؛ ہمبرگ گروپ کے چھ اراکین کی مخصوص تشکیل اور کردار کی تقسیم کو بھی رپورٹ میں "معتقد ہے" کی اصطلاح سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ سرمئی علاقے ہی دراصل "غیر مشروط یکجہتی" کی میراث کا جائزہ لیتے وقت نظرانداز نہ کیے جا سکنے والے سوالات تشکیل دیتے ہیں۔

تبصرے

0

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔

ہمبرگ، گوانتانامو اور افغانستان: جرمنی کی "غیر مشروط یکجہتی" کی بیس سالہ قیمت | Truth Era