بھارت کی چھوٹی سیاسی جماعت کا الزام: نئی دہلی احتجاز سے قبل اراکین کو بین الصوبائی بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی خود ساختہ "کاکروچ جنٹا پارٹی" نامی ایک چھوٹی سیاسی جماعت کا کہنا ہے کہ اس کے اراکین کو اس ہفتے ہفتے کے روز نئی دہلی میں طے شدہ احتجاج سے قبل ہی بھارت بھر میں بڑے پیمانے پر حراست میں لیا گیا۔ احتجاجیوں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ سے ووٹروں کی فہرست کی ترمیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر استعفیٰ مانگا اور اس ترمیم پر تنقید کی کہ یہ وزیراعظم مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں رہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، خود ساختہ "کاکروچ جنٹا پارٹی" (Cockroach Janta Party) نامی بھارت کی ایک چھوٹی سیاسی جماعت کا کہنا ہے کہ اس کے اراکین کو اس ہفتے ہفتے کے روز نئی دہلی میں طے شدہ احتجاج سے قبل ہی بھارت کے مختلف علاقوں سے بڑے پیمانے پر حراست میں لیا گیا۔\n\nاس جماعت کے احتجاج کا مرکزی مطالبہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کا استعفیٰ تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ احتجاجیوں نے ووٹروں کی فہرست کی ترمیم کے عمل پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا، جبکہ ناقدین کا خیال ہے کہ ان ترامیم سے وزیراعظم مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچا ہے۔\n\nایک طویل عرصے سے مزاحیہ نام سے قائم، اور بالکل اصل سیاسی منظرنامے پر نظر آنے والی ایسی چھوٹی سیاسی جماعت کے لیے بین الصوبائی گرفتاریوں کا یہ پیمانا خود عام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معمول کی کارروائی سے کہیں آگے ہے۔ جماعت کا دعویٰ ہے کہ "ہزاروں افراد" کو حراست میں لیا گیا، تاہم الجزیرہ کی رپورٹ میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق کا کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا؛ نہ ہی خود اس جماعت کے حجم اور نمائندگی کے بارے میں رپورٹ میں کوئی وضاحت دی گئی۔\n\nووٹروں کی فہرست کی ترمیم میں حقیقی طور پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں یا نہیں، اور کیا یہ حقیقتاً بی جے پی کے لیے فائدہ مند رہی ہے، ابھی تک یہ صرف ناقدین کے الزامات ہیں اور کسی سرکاری یا عدالتی ادارے کی طرف سے اس کی ابھی تک کوئی تصدیق یا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم، اس جماعت کا حجم کچھ بھی ہو، ایک ایسی چھوٹی سیاسی جماعت کے خلاف، جو صرف سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کرتی ہے، احتجاج شروع ہونے سے قبل ہی بڑے پیمانے پر احتیاطی گرفتاریوں کا عمل الیکشن کے موقع پر شہری احتجاج کی جگہ کے معاملے کو زیر بحث لا چکا ہے۔\n\nالجزیرہ کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس گرفتاری مہم کے بارے میں کوئی وضاحت جاری کی ہے۔ الیکشنی مقابلے کے سب سے حساس اوقات میں ایک مزاحیہ نام کی حامل چھوٹی سیاسی جماعت کے خلاف احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی بین الصوبائی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، اور یہ حقیقت بذات خود شہری احتجاج کے حق اور الیکشنی انصاف کی سرحدوں کو دوبارہ بحث کا موضوع بنا چکی ہے۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔