غزہ جنگ بندی کی سالگرہ: چھ گھنٹے کی قطار اور 'خوراک کی آمد' کا ناپورہ وعدہ
فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی معاہدے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، غزہ کی ایک ماں نایہا مصلاری آج بھی روزانہ کمیونٹی کچن کے باہر چھ گھنٹے سے زیادہ قطار میں کھڑی ہوتی ہیں تاکہ اپنے خاندان کے لیے تھوڑی سی خوراک لا سکیں۔ جنگ بندی کا مقصد یہ تھا کہ خوراک اس جنگ سے تباہ ہو چکے علاقے میں آئے، لیکن وسیع پیمانے پر بھوک کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔
نایہا مصلاری روزانہ غزہ میں ایک کمیونٹی کچن کے باہر چھ گھنٹے سے زیادہ قطار میں کھڑی ہوتی ہیں، اور ان کا واحد مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ اپنے خاندان کے لیے تھوڑی سی خوراک لے کر آ سکیں۔ فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، اس ماں کی حالت کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ غزہ کے موجودہ روزمرہ حالات کی عکاسی ہے۔
فرانس 24 نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا: "روزانہ، غزہ کی ماں نایہا مصلاری تھکا دینے والی چھ گھنٹے سے زیادہ قطار میں کھڑی ہوتی ہیں، کمیونٹی کچن کے باہر منتظر رہتی ہیں تاکہ اپنے خاندان کے لیے کچھ خوراک لے آ سکیں۔" اس چینل نے ساتھ ہی یہ بھی نشاندہی کی: "حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا مقصد یہ تھا کہ خوراک اس جنگ سے تباہ ہو جانے والے علاقے میں آئے، لیکن اب ایک سال گزرنے کے باوجود غزہ میں اب بھی بھوک عام ہے۔"
چھ گھنٹے کی قطار میں صرف وقت ہی ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک عام شہری کی معمول کی زندگی کا متبادل بھی ضائع ہوتا ہے۔ کمیونٹی کچنز غزہ کے بڑھتے ہوئے خاندانوں کی خوراک کے بنیادی ذریعے بن چکے ہیں، اور یہ حقیقت بذات خود ظاہر کرتی ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں خوراک کی ترسیل کے حوالے سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ غزہ میں خوراک کی آمد و رفت کے راستوں پر کنٹرول رکھنے والے فریق اس ایک سال کی ناکامی سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔