دنیا اور سلامتی

ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے سے بھاری شہری جانی و مالی نقصان، الجزیرہ کے صحافی نے تصادم کو "خطرناک تنزلی" قرار دیا

الجزیرہ ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ حوثی باغیوں نے 11 اکتوبر کو بیلسٹک میزائل سے ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ الجزیرہ کے صحافی جام نور احمد نے ریاض سے رپورٹ کرتے ہوئے اس حملے کو تصادم کی "خطرناک تنزلی" قرار دیا۔

0 مرتبہ دیکھا گیامحفوظ کرنے کے لیے سائن اِن کریں
TRUTH ERA

سعودی عرب کی سرکاری سطح پر تصدیق ہو چکی ہے کہ حوثی باغیوں نے 11 اکتوبر (ہفتہ) کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن کے صحافی جام نور احمد نے ریاض سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ حملہ تصادم کی "خطرناک تنزلی" کی علامت ہے۔ بین الاقوامی ہوائی اڈے بطور شہری ہوا بازی کا بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی انسانی قانون کے فریم ورک میں خصوصی تحفظ کی حامل ہیں؛ ایسے ہدف کو نشانہ بنانے سے معصوم شہریوں کے جانی و مالی نقصان کا خطرہ براہ راست بڑھ جاتا ہے۔

یہ حملہ سعودی عرب اور یمن کی حوثی باغیوں کے درمیان جاری طویل عسکری کشمکش کی امتداد میں ہوا ہے۔ حوثی باغی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طویل فاصلے کے حملوں کو سعودی عرب کے اندرونی شہروں تک جنگ کی لپیٹ میں لانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان عسکری تصادم سالوں سے جاری ہے اور یمن کی جانب شہری طویل عرصے سے اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی کا امکان ہے۔ اس حملے کے پیچھے مکمل عسکری فیصلہ سازی کا سلسلہ، آیا یہ شہری ہوا بازی کے ہدف کے خلاف منظم حملوں کا حصہ ہے یا یہ ایک تنہا واقعہ ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔

تبصرے

0

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔

ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے سے بھاری شہری جانی و مالی نقصان، الجزیرہ کے صحافی نے تصادم کو "خطرناک تنزلی" قرار دیا | Truth Era