ٹیکساس کی عدالت نے رینیگلڈ جھیل کے ریزروائر کی اجازت کو کالعدم قرار دیا، بڑے پیمانے پر زمین حاصل کرنے کا سایہ معطل
9 اکتوبر 2026 کو ٹیکساس کی مقامی جج میا گرامبلر نے ریاستی ماحولیاتی معیار کی کمیشن کی طرف سے رینیگلڈ جھیل کے ریزروائر کی جاری کردہ اجازت کو کالعدم قرار دیا، جس سے 44 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی لاگت کا ایک ایسا منصوبہ عارضی طور پر رک گیا جو 16000 ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین اور جنگلی حیات کے مسکن کو زیر آب لا سکتا تھا اور 25 سے زیادہ نسل در نسل چرواہ گاہ چلانے والے خاندانوں کو زمین سے محروم ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، البتہ وچیٹا فالز شہر 30 دنوں میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔
9 اکتوبر 2026 کو ٹیکساس کے ٹریوس کاؤنٹی کی ضلعی عدالت کی جج میا گرامبلر نے ریاستی ماحولیاتی معیار کی کمیشن کی طرف سے پہلے سے منظور کردہ رینیگلڈ جھیل کے ریزروائر منصوبے کی اجازت کو کالعدم قرار دیا، اور ایک ایسے منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا جو 16000 ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین اور جنگلی حیات کے مسکن کو زیر آب لا سکتا تھا اور 25 سے زیادہ نسل در نسل چرواہ گاہ چلانے والے خاندانوں کو اپنی زمین بیچنے پر مجبور کر سکتا تھا۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جج گرامبلر نے یہ فیصلہ آسٹن میں دلائل سننے کے بعد سنایا۔
نسل در نسل چراگاہوں کی زمین رکھنے والے خاندانوں اور ان کے حامیوں کے لیے یہ ایک کامیابی ہے، البتہ ان کا کہنا ہے کہ وچیٹا فالز شہر کی انتظامیہ 30 دنوں کے اندر اپیل دائر کر سکتی ہے۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، میئر ٹم شارٹ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ وکلاء سے اگلے اقدامات پر بات چیت کر رہے ہیں، البتہ رپورٹ کے وقت تک یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ آیا اپیل باقاعدہ طور پر دائر کی جا چکی ہے۔
رینیگلڈ جھیل کا منصوبہ وچیٹا فالز شہر کی تجویز تھا، جس کا مقصد شمالی ٹیکساس کے مستقبل کے خشک سالی کے دور میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پورے منصوبے میں—جس میں لیٹل وچیتوا دریا پر بند بنا کر بنائی جانے والی جھیل، پمپ اسٹیشن اور شہر کے ٹریٹمنٹ پلانٹ تک پانی لے جانے والی پائپ لائن شامل ہے—تقریباً 24000 ایکڑ زمین درکار ہے، جبکہ شہر کے پاس اس وقت صرف تقریباً 6662 ایکڑ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بیشتر زمین بازاری خریداری یا ریاستی زمین حاصل کرنے کے اختیار (ایمننٹ ڈومین) کے ذریعے حاصل کی جانی ہوگی، اور اس اختیار کا سایہ 25 سے زیادہ چرواہ گاہ خاندانوں پر منڈلا رہا ہے۔
ٹیکساس اور ساؤتھ ویسٹ کیٹل رائزرس ایسوسی ایشن نے متاثرہ زمین مالکان کی حمایت میں مقدمہ میں شمولیت اختیار کی۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایسوسی ایشن نے کہا کہ ریزروائر چرواہ گاہوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دے گا اور زمین کی شکل کو مستقل طور پر تبدیل کر دے گا۔ انڈیا ٹائمز نے ٹیکساس ٹریبیون کی مئی 2024 کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ چرواہ گاہ چلانے والوں نے بیان کیا کہ ریزروائر چراگاہوں کو کاٹ کر الگ کر دے گا، دادا دادیوں کی چھوڑی ہوئی زمین کو زیر آب لے آئے گا اور ان کے بچوں کے بڑے ہونے والے گھر ڈوب جائیں گے۔
یہ منصوبہ 1958 میں بھی ووٹروں کی طرف سے مسترد کیا جا چکا تھا۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت وچیٹا فالز واٹر سپلائی ڈسٹرکٹ کے ووٹروں نے رینیگلڈ جھیل کے اصل منصوبے کو 15 ملین ڈالر کی لاگت کے تخمینے کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا۔
2010 سے 2015 تک شمالی ٹیکساس کو شدید خشک سالی کا سامنا رہا، اور وچیٹا فالز کی دو بڑی جھیلیں—ایرو لیک اور کیکاپو لیک—ایک مرحلے پر خطرناک حد تک خالی ہو گئیں۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، شہر کے پبلک ورکس ڈائریکٹر رسل شائبر نے ٹیکساس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے اس دور کو "تباہ کن حد تک" قرار دیا۔
البتہ خشک سالی کا تجربہ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اتنے بڑے پیمانے کے منصوبے کی ضرورت ہے۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جولائی 2014 سے جولائی 2015 کے دوران وچیٹا فالز شہر نے سیویج کو ڈائریکٹ پوٹیبل ری یوژ ٹیکنالوجی سے ٹریٹ کر کے پینے کے قابل پانی میں بدلا، جس سے دونوں جھیلوں پر طلب 75 فیصد تک کم ہو گئی۔ اس کے باوجود دونوں جھیلوں کا کل ذخیرہ تقریباً 20 فیصد تک گر گیا—یہ ایک تنبیہ ہے، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ طلب کی طرف سے ٹیکنیکل حل پہلے ہی دباؤ میڑ نمایاں کمی لائے ہیں۔
ریاستی ماحولیاتی معیار کی کمیشن نے 27 جون 2024 کو بھی اجازت نامہ منظور کر لیا۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے میں ایک ریاستی انتظامی قانون جج کی پہلے کی سفارش کو نظرانداز کیا گیا—جس جج نے "منصوبے کا پیمانہ شہر کی متوقع پانی کی ضرورت سے میل نہیں کھاتا" کی بنیاد پر اجازت مسترد کرنے کی سفارش کی تھی۔ چرواہ گاہ چلانے والوں اور ماحولیاتی گروپوں—جن میں سیراز کے تحفظ کے لیے ٹیکساس ایسوسی ایشن بھی شامل ہے—نے اس فیصلے کو چیلنج کیا، ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی اور زرعی لاگت کی مناسب وضاحت نہیں کی گئی۔
1958 کے ووٹروں کا ردعمل، انتظامی جج کا آزادانہ جائزہ، اور پانی کی طلب کو 75 فیصد تک کم کرنے والی ٹیکنالوجی—یہ تہرے توازن کے پہلو ریاستی نگرانی ادارے کی منظوری میں نظرانداز کر دیے گئے۔ عدالت کی مداخلت نے اس دہائیوں پرانی بحث کو عارضی طور پر ساکن کر دیا ہے۔
انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ریاستی ماحولیاتی معیار کی کمیشن کی منظوری کالعدم ہو چکی ہے اور منصوبہ عارضی طور پر رک گیا ہے، البتہ رینیگلڈ جھیل کی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وچیٹا فالز شہر نے علاقائی طویل مدتی پانی کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ شہر کا اگلا اقدام—خواہ اپیل ہو، متبادل پانی کے ذرائع کی تلاش ہو، یا منصوبے کے پیمانے کی دوبارہ وضاحت—شمالی ٹیکساس کے اگلے کئی سالوں کے پانی کی منصوبہ بندی کے مباحث کی شکل کا تعین کرے گا۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔