طاقت اور سیاست

عباس نے اسرائیلی پابندیوں کے نام پر قانون ساز انتخابات ستمبر دو ہزار ستائیس تک ملتوی کر دیے، فلسطینی سوال کر رہے ہیں کہ ان کی نمائندگی کون کرے گا

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی قانون ساز انتخابات کو ستمبر دو ہزار ستائیس تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ انہوں نے اسرائیل کی مختلف پابندیاں اور غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال بتائی ہے۔ اس فیصلے نے فلسطینی عوام میں وسیع پیمانے پر ناراضی پیدا کر دی ہے جو قبضے کے نظام میں فلسطینیوں کے سیاسی حقوق کے باقاعدگی سے سلب کیے جانے کے طاقت کے عدم توازن کو واضح کرتی ہے۔

0 مرتبہ دیکھا گیامحفوظ کرنے کے لیے سائن اِن کریں
TRUTH ERA

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی قانون ساز انتخابات کو ستمبر دو ہزار ستائیس تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور سرکاری طور پر اس کی وجہ اسرائیل کی مختلف پابندیاں اور غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں فلسطینی عوام کے ردعمل جمع کیے گئے ہیں جن میں بہت سے لوگوں نے کھلے عام سوال اٹھایا: ہماری نمائندگی کون کرے گا؟

یہ فیصلہ اسرائیل کی فوجی قبضے اور انتظامی کنٹرول کے تحت فلسطینی سیاسی زندگی کے ڈھانچہ واری زخم کو بے نقاب کرتا ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیل کی طویل عرصے سے جاری سیکیورٹی کنٹرول، یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع، فلسطینیوں کی آمد و رفت کی آزادی پر پابندیاں، اور فلسطینی اتھارٹی کے کام کرنے کی جگہ پر متعدد پابندیوں نے ہر انتخابی عمل کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ قبضے والے فریق کی شرائط کے تحت چلے۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ فلسطینی حقیقی سیاسی نمائندگی کے حصول کے لیے پکار رہے ہیں، اور انتخابات کا بار بار ملتوی ہونا اس نمائندگی کی کمی کا براہ راست اظہار ہے۔

ایک ایسے نظام میں جہاں ایک مقبوضہ قوم کا سیاسی عمل قبضے والے کی اجازت پر منحصر ہے، انتخاب کو بطور جمہوریت کے آلے اس کے اصل مواد سے خالی کر دیا گیا ہے۔ چاہے ستمبر دو ہزار ستائیس تک کا ملتوی ہونا ایک محدود وقتی مہلت ہو، یا حقیقت میں غیر معینہ مدت کی التوا ہو، فلسطینی عوام ووٹ کے ذریعے اپنی نمائندگی کا فیصلہ کرنے کا ذریعہ کھو چکے ہیں۔ عباس کی طرف سے بتائی گئی مخصوص پابندیاں کس نوعیت کی ہیں، کس قانونی یا انتظامی بنیاد پر کام کرتی ہیں، اس بارے میں رپورٹ میں کچھ نہیں بتایا گیا — یہ معلومات کا خلا ہی اصل مسئلے کی بنیاد ہے: فلسطینیوں کے سیاسی تقدیر کی تشریح کون کرے گا اور شرائط کون مقرر کرے گا، یہ فیصلہ کبھی فلسطینیوں کے ہاتھ میں نہیں رہا۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے نام پر غزہ اور مغربی کنارے پر جاری کنٹرول دہشت گردی کے خلاف کارروائی یا عوامی تحفظ کی ضرورت سے بہت آگے بڑھ چکا ہے اور فلسطینیوں کے اجتماعی سیاسی ارادے کو باقاعدگی سے دبا رہا ہے۔ یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع، فلسطینیوں کے روزمرہ حقوق کی مسلسل کمی، اور کسی قابل اعتماد سیاسی عمل کی عدم موجودگی کے پس منظر میں انتخابات کا ملتوی کرنا محض ایک شیڈول کی تبدیلی نہیں بلکہ فلسطینیوں کے سیاسی حقوق کے حصول کی کوششوں پر ایک اور شدید ضرب ہے۔

تبصرے

0

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔