برطانیہ کے بادشاہ کا سیل شدہ خط آونگ سن سُو کی تک پہنچنے کا دعویٰ: آزادی اور ملاقات کی برطانیہ کی جانب سے مطالبات اب بھی ٹھکری جا رہی ہیں
اَل جازیرا کی رپورٹ کے مطابق، میانمار کی فوج کے حمایت یافتہ حکومت نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کے افسر نے گرفت شدہ آونگ سن سُو کی کو مٹی کے بارے میں دو کتابیں اور چارلز سوم کا بھیجا ہوا سیل شدہ سفارتی خط پہنچایا ہے، اور دو ماہ میں پہلی بار اس کی عوامی تصاویر بھی پیش کی ہیں۔ برطانیہ کی آزادی اور بیرونی افراد سے ملاقات کی اجازت کی مطالبات کو اب بھی ٹھکریا جا رہا ہے؛ نہ خط کے مواد اور نہ پیکٹ کی وصول کی تصدیق برطانیہ یا کسی خودمختار فریقِ ثالث نے کی ہے، اور رپورٹ میں نہ اس کی آزادی اور نہ برطانیہ کی طرف
اَل جازیرا کی رپورٹ کے مطابق، میانمار کی فوج کے حمایت یافتہ حکومت نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کے ایک افسر نے پیر کو آونگ سن سُو کی سے ملاقات کی اور ایک ایسا پیکٹ پہنچایا جس میں مٹی کے بارے میں دو کتابیں اور برطانیہ کے بادشاہ چارلز سوم کا بھیجا ہوا سیل شدہ سفارتی خط تھا۔ صدر کے ترجمان نے فیس بک پر پیغام جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ ساتھ منسل دو تصاویر آونگ سن سُو کی اُن دو مردوں سے ملاقات کو ظاہر کرتی ہیں جو پیٹھ کیمرے کی طرف کھڑے تھے۔ دو ماہ کے وقفے بعد پہلی بار اس گرفت شدہ سابق رہنما کی تصاویر عوامی طور پر دکھائی گئیں۔
بین الاقوامی برادری، بشمول برطانیہ، ہمیشہ سے آونگ سن سُو کی آزادی اور بیرونی افراد سے اس کی ملاقات کی اجازت مانگتی رہی ہے، لیکن فوج کے حمایت یافتہ حکومت نے ان مطالبات کو ٹھکرادیا۔ رپورٹ میں نہ اس کی آزادی دکھائی گئی اور نہ اسے برطانیہ کی طرف سے براہِ راست ملاقات کی اجازت دی گئی۔ حکومت کے مطابق، پیکٹ کی تحویل میانمار کے وزارتِ داخلہ کے افسر نے مکمل کی۔ برطانیہ میانمار کا سابقہ نوآبادی حاکم تھا، لیکن گرفتگی اور ملاقات کی اجازت پر اصل اختیار میانمار کے حکام کے پاس ہے۔ حکومت کے دعویٰ کے مطابق کی گئی اس پیکٹ کی تحویل کسی بیرونی رسائی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
سیل شدہ خط کے مواد اور پیکٹ کی پہنچائے جانے کی تصدیق نہ برطانیہ نے کی اور نہ کسی خودمختار فریقِ ثالث نے۔ اَل جازیرا نے رپورٹ کے پس منظر میں بتایا کہ چارلز سوم کی باغبانی اور ماحول پر گہری دلچسپی ہے؛ مٹی کے بارے میں دو کتابیں اسی پس منظر سے ہم آہنگ ہیں، جو اس رابطے کو مزید نمائشی بناتے ہیں۔ حکومت کے مطابق، یہ رابطہ جس فریق نے آونگ سن سُو کو گرفت کیا ہے، اس کی قیادت میں ہوا؛ موجودہmaterials یہ بھی ظاہر نہیں کرتے کہ برطانیہ نے آونگ سن سُو سے ملاقات کا راستہ کھولا ہے۔ اگر ایسے غیر نظرِ آنا خط کو میانمار کی پالیسی کے رخ پر آنے کا ثبوت سمجھا جائے، تو یہ نمائشی جھنک کو قابلِ تصدیق آزادی اور ملاقات کے نتائج کی جگہ دے گا۔
اَل جازیرا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ میانمار کے حکام نے پہلی بار آونگ سن سُو کو ’خاص خاتون قیدی‘ کہا۔ وہ اب بھی متعدد الزامات کے تحت زندانی میں ہے؛ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات فوج نے اپنی حکمرانی بحال کرنے کے لیے جعل کیے تھے۔ اَل جازیرا نے ’ٹائم‘ میں پہلے شائع ہونے والے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوجی کودھ کے سربراہ اور موجودہ صدر مین آونگ خلائینگ نے کہا: "میں ہمیشہ اس کے ساتھ بہت نرمی سے پیش آیا ہوں۔" لیکن گرفتگی جاری رہتی ہے اور ملاقات میں رکاوٹ برقرار ہے؛ موسومی ’نرمی‘ کی تعریف بھی گرفتگی اور اجازت پر قبضہ رکھنے والے حکام خود کرتے ہیں، اور اس کی کوئی قابلِ جانچ حد نہیں ہے۔
آونگ سن سُو کو 2021 کے فوجی کودھ میں اقتدار سے ہٹایا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ مسلسل گرفت رہی ہے۔ اَل جازیرا نے تنازعاتی نگہبانی ادارے ACLED کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کودھ کے سبب پیدا ہونے والی جاری داخلی جنگ میں 100,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں؛ رپورٹ میں اعداد و شمار کی کوئی کٹ آف تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے اسے حتمی ہلاکت کی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔ اَل جازیرا نے یہ بھی کہا کہ آونگ سن سُو نے کبھی میانمار کی روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، جس سے اس کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس کے ساتھ ہونے والی انفرادی نگہداشت جاری داخلی جنگ اور روہنگیا مسئلے کے بارے میں ذمہ داری کے مباحثے کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
اس صورتحال نے برطانیہ کی میانمار سے متعلق پالیسی کو ایک ایسی آزمائش کا سامنا کھڑا کیا ہے جس سے نظرِ انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی اور ملاقات بنیادی تقاضے ہیں۔ اگر سفارتی اقدام صرف شاہی خطوط اور پیکٹ کی تحویل تک محدود ہو اور فوج کی ملکی طاقت پر قبضے، جاری داخلی جنگ اور روہنگیا مسئلے کو نہ چھوئے، تو اس رابطے میں پالیسی کا رخ بدلنے کا وزن نہیں ہے۔ رپورٹ کے وقت تک، سیل شدہ خط نے آزادی یا ملاقات میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔