شاہکی تعاون تنظیم کا موقع، دوشنبه: سنگھ نے ایرانی نائب صدر اور تاجکستانی وزیراعلی سے ملاقات کی، دفاع وزیر سے تربیت پر گفتگو
The Hindu International کے مطابق، بھارت کے دفاع وزیر راج ناتھ سنگھ نے 20 اکتوبر 2026ء کو دوشنبه میں شاہکی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سرکزی حکومتوں کے سربراہوں کے کونسل کے 25ویں اجتماع کے دوران ایرانی پہلے نائب صدر محمد رضا علایی اور تاجکستانی وزیراعلی قوشل روزُرزادہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے تاجکستان کے دفاع وزیر ایمومالی صبیر زادہ سے بھی ملاقات کر دوطرفہ دفاعی تعاون، خاص طور پر صلاحیت سازی اور تربیت پر بحث کی۔ رپورٹ میں ایرانی ملاقات کے مخصوص موضوعات افشا نہیں کیے گئے، اور تاجکستانی دف
The Hindu International کے مطابق، بھارت کے دفاع وزیر راج ناتھ سنگھ نے 20 اکتوبر 2026ء کو دوشنبه میں شاہکی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سرکزی حکومتوں کے سربراہوں کے کونسل کے 25ویں اجتماع کے دوران ایرانی پہلے نائب صدر محمد رضا علایی اور تاجکستانی وزیراعلی قوشل روزُرزادہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور مشترکہ دلچسپی کے موضوعات پر بات چیت کی۔ سنگھ اس دوران تاجکستان کا دو دن کا رسمی دورہ کر رہے تھے اور بھارت کی نمائندگی کر کے اجتماع میں شریک ہوئے۔
سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ دوشنبه میں ہونے والے شاہکی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سرکزی حکومتوں کے سربراہوں کے موقع کے دوران علایی سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔ روزُرزادہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات "بھارت اور تاجکستان کے درمیان دیرینے تہذیبی تعلقات اور گہرے عوامی رابطوں کو نمایاں کرتی ہے"۔ عوامی معلومات میں سنگھ اور علایی کی ملاقات کے مخصوص موضوعات، کسی وعدے یا نتائج کی تفصیل نہیں دی گئی، اور نہ ہی بتایا گیا کہ آیا دونوں کے درمیان کوئی نئی دفاعی ترتیب ہوئی یا نہیں؛ وزیراعلی سے ملاقات کے بعد بھی کوئی مخصوص تعاونی دستاویزات پیش نہیں کی گئیں۔
سنگھ نے تاجکستان کے دفاع وزیر ایمومالی صبیر زادہ سے بھی بات چیت کی۔ دونوں نے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقے پر تبادلۂ خیال کیا، جس کا مرکزی نقطہ صلاحیت سازی اور تربیت تھا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تربیت کی قیادت کون کرے گا، خراجات کون ادا کرے گا، کن اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، کیا اس کے ساتھ سامان کی شرائط بھی منسلک ہوں گی یا نہیں، اور نہ ہی عمل داری کا کوئی واضح وقت طے بتایا گیا۔
دفاعی تعاون کی حقیقی حد صرف تربیت کے وعدوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعین کورسز، سہولیات، بعدی مدد اور مسلسل مالی معاونت سے بھی ہوتا ہے۔ موجودہ مواد میں یہ عملی شرائط فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے دونوں فریقوں کی لاگت، فائدے یا آپس میں وابستگی کا جائزہ لینا ممکن نہیں۔
اِن رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے شاہکی تعاون تنظیم کے موقع پر ایران اور تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ رابطے آگے بڑھائے ہیں: ایران کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے موضوعات عوامی طور پر اعلان نہیں کیے گئے، جبکہ تاجکستان کے ساتھ دفاعی صلاحیت سازی پر بات چیت ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ معاہدے کا متن، مالی معاونت کا ذریعہ اور مدت سامنے نہیں آئی ہے، ان تحریکوں کو نئے اتحاد یا پہلے سے طے شدہ وعدوں کے بجائے دوطرفہ سیاسی اور دفاعی ایجنڈے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔