غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے سے چار افراد کا خاندان نیند میں جاں بحق؛ جنگ بندی کے بعد 1,300 سے زائد فلسطینی ہلاک
الجزیرہ کے مطابق شمالی غزہ کے بیت لاہیا میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں چار افراد کا خاندان نیند کے دوران جاں بحق ہوا، جن میں 8 اور 12 سال کی دو لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج غزہ میں 1,300 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔
الجزیرہ نے 10 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے شمالی غزہ کے بیت لاہیا میں ایک گھر پر فضائی حملہ کیا، جس میں چار افراد کا خاندان نیند کے دوران مکمل طور پر جاں بحق ہو گیا۔ خاندان کی دو لڑکیوں کی عمریں بالترتیب 8 اور 12 سال تھیں۔
الجزیرہ نے اس واقعے کی خبر ویڈیو بلیٹن کی صورت میں جاری کی۔ رپورٹ میں ہلاکتوں کی آزاد ادارے سے تصدیق پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی اسرائیلی فوج کی جانب سے اس حملے کے بارے میں کوئی وضاحت شامل تھی۔ الجزیرہ کے مطابق حملہ رات کے وقت ہوا اور اس کا ہدف بیت لاہیا میں ایک خاندان کا گھر تھا۔
اسی رپورٹ میں الجزیرہ نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج غزہ میں 1,300 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ یہ مجموعی تعداد الجزیرہ کے اپنے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ رپورٹ میں اس کے مخصوص ماخذ یا اعداد شمار مرتب کرنے کا طریقہ نہیں بتایا گیا۔
جنگ بندی معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہوئے تقریباً ایک سال ہو چکا ہے، لیکن الجزیرہ کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی غزہ میں شہری آبادی والے علاقوں پر رات کے فضائی حملے اب بھی جاری ہیں۔ حملوں کی آزادانہ تصدیق کے بارے میں معلومات کی کمی، ہلاکتوں کے مجموعی اعداد و شمار کے غیر واضح معیار اور انفرادی حملوں پر اسرائیلی وضاحت کی مسلسل عدم موجودگی، غزہ کی جنگ میں شہری نقصان کا جائزہ لینے میں بیرونی مبصرین کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔