روس میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ مکمل بند: ثقافتی ادارہ حکومتی سودے بازی کا مہرہ، سیکھنے والے اور اساتذہ قیمت ادا کر رہے ہیں
روسی وزارت خارجہ نے 13 ستمبر 2026 تک ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور نووسیبیرسک میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی تمام شاخیں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ جرمنی کی جانب سے روس ہاؤس اور بون میں روسی قونصل خانے کی بندش اور روسیوں کے لیے ویزا پابندیوں کے جواب میں کیا گیا۔ سالانہ تقریباً 22 ہزار امتحانات، لگ بھگ 10 ہزار جرمن زبان کے طلبہ اور طویل عرصے سے وابستہ اساتذہ بین الحکومتی کشیدگی کا اصل بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ 2011 کے معاہدے میں خودکار جوابی بندش لازم نہیں کی گئی تھی؛ یہ بندش قانونی مجبوری نہیں بلکہ سیاسی انتخاب ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور نووسیبیرسک کی تین شاخیں اتوار، 13 ستمبر 2026 تک بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ روس جرمنی تعلقات میں حالیہ عرصے کی شدید ترین بین الحکومتی کشیدگی میں سے ایک ہے۔
بندش کا فوری محرک اگست کے آغاز میں لائپزگ ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی ناکام کوشش پر برلن کا ردعمل تھا۔ جرمن حکام نے ستمبر کے آغاز میں اس حملے کا الزام ماسکو پر عائد کیا اور اس کے بعد پابندیوں کا اعلان کیا: برلن میں روسی ثقافتی و تعلیمی مرکز روس ہاؤس اور بون میں روسی قونصل خانہ بند کرنا، نیز روسی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں سخت کرنا۔ روسی وزارت خارجہ نے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی بندش کو جوابی اقدام قرار دیا۔
2011 کے روس جرمنی بین الحکومتی معاہدے میں اگرچہ باہمی بنیاد پر ایک دوسرے کے ثقافتی اداروں کے کام کی ضمانت دی گئی تھی، مگر یہ نہیں کہا گیا تھا کہ ایک ملک ثقافتی مرکز بند کرے تو دوسرا ملک لازماً اسی طرح جواب دے۔ دوسرے لفظوں میں، روس میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی بندش سیاسی انتخاب ہے، قانونی ذمہ داری نہیں۔
اس انتخاب کی براہ راست زد ان عام لوگوں پر پڑی ہے جن کا حکومتی فیصلوں پر کوئی اثر نہیں۔ ڈوئچے ویلے نے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ 2025 میں تقریباً 10 ہزار افراد نے روس میں انسٹی ٹیوٹ کے پروگراموں اور شراکت داروں کے ذریعے جرمن زبان سیکھی، جبکہ 2023 سے پہلے یہ تعداد تقریباً 16 ہزار تھی؛ اسی سال ادارے نے تقریباً 22 ہزار امتحانات کرائے اور اس کی لائبریری میں 6,700 بار آمد ہوئی۔
کئی قارئین نے ڈوئچے ویلے کو اپنی مشکلات بتائیں۔ ایک ایسے قاری نے، جو روس کو "دیر سے وطن واپس آنے والے" کی حیثیت سے چھوڑ چکا ہے، کہا کہ اس کے والدین نے اس خزاں یا سردیوں میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کا امتحان دے کر جرمنی واپسی اور آبادکاری کی دستاویزات جمع کرانے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر اب انہیں امتحان کے لیے کسی تیسرے ملک جانا ہوگا، جس کا مطلب "اضافی خرچ اور دباؤ" ہے۔ ایک اور قاری نے کہا کہ اس کا بچہ جرمن اسکول میں پڑھتا ہے، "اب روس میں امتحان نہیں دے سکتا، کسی دوسرے ملک جانا ہوگا"۔
جرمن زبان کے اساتذہ کو بھی گہرا دھچکا لگا ہے۔ ماسکو کے علاقے کے ایک استاد نے لکھا کہ اس کا اسکول 15 برس سے زیادہ عرصے سے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ کام کر رہا تھا: "یہ تعاون ہمارے کام کا سب سے اہم سہارا تھا۔ ادارہ ہمیں اعلیٰ معیار کا تدریسی مواد اور جدید کتابیں فراہم کرتا تھا، جس سے کلاسیں حقیقی دنیا سے جڑی رہتی تھیں۔" ایک اور استاد نے صاف کہا: "میں روس میں جرمن پڑھاتا ہوں، اب مجھے کام نہیں مل رہا۔" کسی اور نے کہا: "میں جرمن زبان کا استاد ہوں، مجھے لگتا ہے کہ پیشہ ورانہ طور پر مجھے کنارے پر چھوڑ دیا گیا اور ترک کر دیا گیا ہے۔"
گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی سیکریٹری جنرل گیٹے زشوخ نے ایک بیان میں کہا: "تمام ملازمین کو 13 ستمبر 2026 تک روس میں اپنا کام بند کرنا ہوگا۔ ہماری لائبریری سے اب کتابیں جاری نہیں ہوں گی اور تربیت بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔ جرمن زبان کے اساتذہ پیشہ ورانہ تربیت اور معاونت کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہو رہے ہیں۔ روسی عوام کے لیے اس کا مطلب جرمن زبان، جرمن ثقافت اور جرمنی سے قابل اعتماد معلومات تک رسائی مزید محدود ہونا ہے۔" ادارے کی صدر گیشے یوست نے اسے روس جرمنی ثقافتی تعلقات کے "ایک عہد کا اختتام" قرار دیا۔
روسی حکام نے ڈوئچے ویلے کو "ناپسندیدہ تنظیم" قرار دے رکھا ہے اور اس میڈیا کے ساتھ تعاون کو فوجداری جرم بنایا گیا ہے۔ مذکورہ قارئین نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر اپنے تجربات بیان کیے، کیونکہ انہیں قانونی خطرات کا سامنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈوئچے ویلے کو ملنے والے ردعمل کوئی نمائندہ سروے نہیں، اور معلوماتی ماحول نے خود ان بیان کنندگان کی آواز محدود کر دی ہے۔
قارئین کے ردعمل منقسم تھے۔ ایک قاری نے لکھا: "ہم چاہتے ہیں کہ روسی وفاق اور جرمنی کے درمیان ثقافتی تعلقات تباہ نہ ہوں۔ افسوس ہے کہ ثقافت سیاسی فیصلوں کی یرغمال بن گئی ہے۔ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی بندش ان عام لوگوں کو متاثر کرے گی جو سیاست دانوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔" ایک اور نے ذمہ داری برلن پر ڈالی: "جرمن حکام نے روس ہاؤس بند کر کے روس کے ساتھ ثقافتی تعاون دفن کر دیا۔ ساری ذمہ داری جرمنی کی طرف ہے۔" ایک اور قاری نے ماسکو کے ردعمل کو منطقی قرار دیا: "شاخوں کی بندش روس ہاؤس بند کرنے کے جرمنی کے فیصلے کا معقول جواب معلوم ہوتی ہے؛ ثقافتی اور انسانی رشتے سیاست کے مہرے بنتے جا رہے ہیں۔"
ایک اور قاری کا زیادہ ساختی سوال تھا: "جو لوگ روس کو یورپ سے الگ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، وہ بیک وقت اپنے بچوں اور قریبی رشتہ داروں کو یورپی تعلیم اور یورپی طرز زندگی کیوں دے سکتے ہیں؟" یہ سوال بین الحکومتی کشیدگی کی قیمت کو فیصلہ سازوں اور عام شہریوں کے درمیان موجود فرق کی طرف موڑ دیتا ہے۔
لائپزگ ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی ناکام کوشش کے بارے میں روسی مؤقف اور جواب اس رپورٹ میں پیش نہیں کیے گئے، جبکہ جرمنی کی نسبت اب بھی ایک فریق کا دعویٰ ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے امتحانات اور کورسز روس میں شراکت داروں یا آن لائن طریقے سے جاری رہیں گے یا نہیں، اور سالانہ تقریباً 22 ہزار امیدواروں میں سے کتنے تیسرے ملک جا سکتے یا جانا چاہتے ہیں، اس کا بھی کوئی ڈیٹا نہیں۔
گوئٹے انسٹی ٹیوٹ دنیا کے 100 ممالک میں 154 شاخیں چلاتا ہے، اور روس میں بند ہونے والی تین شاخیں اسی عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ 2025 کے 10 ہزار سیکھنے والے، 22 ہزار امتحانات اور لائبریری کے 6,700 دورے 13 ستمبر کے بعد صفر ہو جائیں گے۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔