بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا سے ہزار سے زیادہ بچوں کی ہلاکت — سیاسی افراتفری کے بعد مدافعتی نظام کے ٹوٹنے کی قیمت سب سے کمزور بچوں نے ادا کی
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش میں رواں سال مارچ سے شروع ہونے والی خسرے کی وبا سے کم از کم 1,002 بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور اب تک 187,484 متاثرین کی اطلاع دی گئی ہے۔ امریکی ادارۂ انسداد امراض (سی ڈی سی) کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا خسرے کا پھیلاؤ ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت اور اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے اس بحران کو 2024 سے 2025 کے دوران سیاسی افراتفری کے دورانیے میں مدافعتی پروگرام میں پیدا ہونے والے خلا کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ اپریل میں شروع کیا گیا قومی ہنگامی ٹیکہ کاری مہم
بنگلہ دیش اپنی تاریخ کے سب سے سنگین خسرے کی وبا سے دوچار ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ملک کے محکمۂ صحتِ عامہ کی جنرل ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے اس ہفتے بدھ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال مارچ سے وبا کے آغاز کے بعد سے کم از کم 1,002 بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور اب تک 187,484 خسرے کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
امریکی ادارۂ انسداد امراض (سی ڈی سی) نے تصدیق کی ہے کہ اس 1.78 ارب نفوس کے ملک میں موجودہ پھیلاؤ دنیا کا سب سے بڑا خسرے کا پھیلاؤ ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچے وبا کے ابتدائی مرحلے میں کل کیسز کا 80 فیصد سے زیادہ تھے — یہ وہی گروہ ہے جو ابھی ٹیکہ کاری کے اہل نہیں ہوئے یا جن کا ٹیکہ کاری پروگرام منقطع ہو گیا ہے۔
"جہاں تک مجھے معلوم ہے، بنگلہ دیش نے کبھی اتنے زیادہ بچوں کو خسرے سے مرتے نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی ایک سال میں اتنے بڑے پیمانے پر مریضوں کا جھرم سامنے آیا ہے،" ڈھاکہ کے انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمیولوجی، ڈیزیز کنٹرول اینڈ ریسرچ کے سابق سربراہ پروفیسر محمود رحمان نے روئٹرز کو بتایا، "یہ واقعی ایک خوفناک صورتحال ہے، اور سب سے دردناک بات یہ ہے کہ متاثرین بچے ہیں۔"
عالمی ادارے اس بحران کا سراغ ایک مخصوص سیاسی صدمے سے جوڑ رہے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف نے کہا ہے کہ وبا کی جڑ 2024 سے 2025 کے دوران ملک کے مدافعتی پروگرام میں پیدا ہونے والے خلا میں ہے — وہی عرصہ جب اس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا اور ملک بھر میں سیاسی افراتفری پھیل گئی۔ پیر کے روز بنگلہ دیش کے وزیرِ صحت سردار حسین نے پارلیمان میں تسلیم کیا کہ 2024 سے 2025 کے دوران خریداری کی پالیسی میں تبدیلیوں کی وجہ سے ویکسین کی قلت پیدا ہوئی۔
حکمرانی کے سلسلے کا ٹوٹنا ناپنے کے قابل نتائج لایا۔ رواں سال اپریل میں شروع کی گئی قومی ہنگامی ٹیکہ کاری مہم 1.8 کروڑ بچوں تک پہنچی، تاہم سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 40 لاکھ بچوں تک یہ مہم کبھی نہیں پہنچی۔ محکمۂ صحتِ عامہ کے ترجمان زاہد رئہان نے ایجنسی فرانس پریس سے کھلے الفاظ میں کہا: "ہم ہرڈ ایمیونٹی کا حصول نہیں کر سکے۔" انہوں نے بتایا کہ غیر ٹیکہ کاری شدہ بچوں کی تلاش کا کام جاری ہے اور زور دیا کہ "خسرے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، ہمارا مقصد ہلاکتوں کو کم کرنا ہے، ہم بچوں کی ٹیکہ کاری جاری رکھیں گے۔"
ہسپتال دوہری دباؤ کا شکار ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے میں ڈینگی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور 45,000 سے زیادہ لوگ ڈینگی کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ صرف منگل کے ایک دن میں داخلائی اور ہلاکتوں کے دونوں ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ محدود بستر دونوں وباؤں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔
امریکی سی ڈی سی اسے دنیا کی سب سے بڑی خسرے کی وبا قرار دے چکا ہے اور عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف نے بھی وبا اور مدافعتی نظام کے ٹوٹنے کے درمیان تعلق کی تصدیق کر دی ہے، تاہم مخصوص بین الاقوامی امداد کا حجم، فنڈنگ کے ذرائع اور جوابی کارروائی کا ٹائم ٹیبل عوامی رپورٹس میں اب بھی واضح نہیں ہے۔ سیاسی افراتفری کی قیمت سب سے کمزور بچوں نے ادا کی ہے، اور یہ کہ بیرونی صحتِ عامہ کا نظام اس 1.78 ارب نفوس کے ملک میں پیش آنے والے بحران کو کس طرح اور کس حد تک جواب دے گا، اس بارے میں عوامی معلومات ابھی بھی محدود ہیں۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔