نوبل امن انعام نے سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج پلے کو دیا، 'نیو یارک ٹائمز' نے اسے ٹرمپ انتظامیہ پر ضمنی ملاممت قرار دیا
'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق، نوبل امن انعام ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج نوی پلے کو دیا گیا، اس انتخاب کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی قانونی نظام پر بارہا حملوں، خاص طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت پر حملوں کے ضمنی ملاممت کے طور پر پڑھا جا رہا ہے۔
نوبل کمیٹی نے اس سال کا امن انعام سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج نوی پلے (Navi Pillay) کو دیا۔ 'نیو یارک ٹائمز' کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، اس انتخاب کو ٹرمپ انتظامیہ کی "ضمنی ملاممت" (implicit rebuke) کے طور پر پڑھا جا رہا ہے۔
'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے "بین الاقوامی قانونی نظام پر بارہا حملے" کیے ہیں، جبکہ ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت پر "خصوصی حملے" کیے گئے ہیں۔ پلے کا بطور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج کا کردار محولہ پس منظر سے براہ راست مطابقت رکھتا ہے۔
البتہ، 'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف اٹھائے گئے مخصوص اقدامات، جیسے کہ پابندیاں یا دوسرے دباؤ کے اقدامات کی تفصیل نہیں دی گئی، اور نوبل کمیٹی کی مکمل سرکاری انعام دینے کی تقریر بھی دستیاب مواد میں تفصیل سے پیش نہیں کی گئی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس انعام کے حوالے سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے آیا ہے یا نہیں، اس بارے میں بھی عوامی معلومات محدود ہیں۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔