دنیا اور سلامتی

سوڈانی فوج نے خرطوم کے اوپر آر ایس ایف کے ڈرون مار گرائے؛ ساڑھے تین سالہ جنگ اب بھی عالمی توجہ کے حاشیے پر

سوڈانی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے دارالحکومت خرطوم کے شمال میں واقع ام درمان میں فوری معاونتی فورس کے تمام آنے والے ڈرون مار گرائے۔ اپریل 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سوڈان کے تنازعے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور دنیا کا سب سے بڑا بھوک اور بے دخلی کا بحران پیدا ہو چکا ہے، لیکن عالمی توجہ اور سفارتی مداخلت اب بھی اس کے حجم سے غیر متناسب ہیں۔

2 مرتبہ دیکھا گیامحفوظ کرنے کے لیے سائن اِن کریں
TRUTH ERA

【خرطوم سے رپورٹ】سوڈانی فوج نے جمعرات (10 ستمبر) کو اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے دارالحکومت خرطوم کے شمال میں واقع ام درمان میں فوری معاونتی فورس (RSF) کی جانب سے داغے گئے تمام ڈرون مار گرائے۔ خرطوم میں ایجنسی فرانس پریس کے نامہ نگار نے علی الصبح پہلے طیارہ شکن توپوں کی آواز سنی اور اس کے بعد پانچ دھماکے ریکارڈ کیے۔

اخبار دی ہندو نے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ سوڈانی فوج کے ایک ذریعے نے کہا: ”ہمارے فضائی دفاع نے ان تمام ڈرونز کو روک کر مار گرایا جو ملیشیا نے ام درمان کے شمالی علاقوں پر حملے کی کوشش میں بھیجے تھے۔“ اس نے مزید کہا: ”ان میں سے کوئی بھی ڈرون اپنے ہدف تک نہیں پہنچا۔“ ام درمان میں ایک بڑا فوجی کمپلیکس واقع ہے اور یہ شہر طویل عرصے سے دونوں فریقوں کے درمیان ایک اہم تزویراتی مرکز رہا ہے۔

گزشتہ ماہ آر ایس ایف نے مسلسل دو دن ڈرونز کے ذریعے خرطوم پر حملے کیے تھے، جنہیں سوڈانی فوج نے اس وقت بھی روک لیا تھا۔

اپریل 2023 میں سوڈانی مسلح افواج اور آر ایس ایف کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس تنازعے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بھوک اور بے دخلی کا وہ بحران پیدا ہوا ہے جسے اقوام متحدہ دنیا کا سب سے بڑا بحران قرار دیتی ہے۔ مغربی بڑی طاقتوں کے سفارتی ایجنڈے، بڑے ذرائع ابلاغ کی کوریج کی شدت، پابندیوں اور انسانی امداد کے حجم میں اس جنگ کو یوکرین اور غزہ کے تنازعات کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر کم توجہ ملتی ہے۔ حالیہ عرصے میں خرطوم میں ”معمول کی زندگی کی بتدریج واپسی“ کے آثار نظر آئے ہیں: تقریباً 23 لاکھ بے گھر افراد دارالحکومت واپس آ چکے ہیں، تعمیر نو شروع ہو گئی ہے اور تجارت آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔ تاہم، واپسی کا یہ حجم خود ساڑھے تین سالہ جنگ سے پیدا ہونے والے بڑے آبادیاتی صدمے کو ظاہر کرتا ہے۔

خرطوم اور اس کے گرد و نواح میں شہری ہلاکتوں اور مادی نقصانات کی حقیقی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔ آر ایس ایف نے بھی ڈرون کے تازہ حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ محاذ کی صورت حال سے متعلق معلومات اس وقت صرف سوڈانی فوج کے ذرائع سے آ رہی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

سوڈان کا تنازعہ، جسے اقوام متحدہ نے متعدد بار ”دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران“ قرار دیا ہے، عالمی سفارتی ایجنڈے اور میڈیا میں اب بھی اپنے حجم کے مقابلے میں غیر متناسب طور پر کم جگہ پاتا ہے۔ خرطوم کے اوپر ڈرونز کا یہ تازہ مقابلہ افریقہ کے ایسے محاذ پر ہوا ہے جسے اس کے برابر بین الاقوامی توجہ اور سفارتی مداخلت حاصل نہیں۔

تبصرے

0

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔