طاقت اور سیاست

ڈیفالٹ فیڈ پلیٹ فارم کا استحقاق نہیں: آسٹریلیا ٹیکنالوجی کمپنیوں کو انتخاب واپس دینے پر مجبور کرنے کی تیاری میں

آسٹریلیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کرنے کی تجویز دے رہا ہے کہ وہ 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے صارفین کو اپنی ڈیفالٹ فیڈ منتخب کرنے دیں، جبکہ خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ 10 کروڑ 92 لاکھ آسٹریلوی ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ تجویز کا ہدف الگورتھم بذات خود نہیں بلکہ وہ طاقت کا ڈھانچہ ہے جس میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیفالٹ ترتیبات کے ذریعے صارفین کی توجہ پر قابض رہتی ہیں اور خطرات افراد اور خاندانوں پر منتقل کر دیتی ہیں۔

0 مرتبہ دیکھا گیامحفوظ کرنے کے لیے سائن اِن کریں
TRUTH ERA

بڑے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی سب سے اہم طاقتوں میں سے ایک کسی ایک پوسٹ کو حذف کرنا نہیں، بلکہ صارف کے کوئی انتخاب کرنے سے پہلے ہی ڈیفالٹ فیڈ کے ذریعے یہ طے کرنا ہے کہ کون سا مواد زیادہ آسانی سے دکھائی دے گا۔ آسٹریلوی حکومت پلیٹ فارمز کو یہ اختیار صارفین کو واپس دینے کا پابند بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا رخ اس ادارہ جاتی برتری کی طرف ہے جس پر ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں طویل عرصے سے قابض ہیں: کمپنیاں سفارش، درجہ بندی اور تقسیم کو کنٹرول کرتی ہیں، مگر توجہ کے رخ موڑے جانے اور نقصان دہ مواد کے مسلسل سامنے آنے کے نتائج عام صارفین کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

این پی آر کی 8 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے اسی روز کینبرا میں اعلان کیا کہ مجوزہ قانون سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تقاضا کرے گا کہ وہ 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے صارفین کو ایسا انتخابی ذریعہ فراہم کریں جس کی منتخب ترتیب برقرار رہے۔ آسٹریلوی حکومت کے بیان کے مطابق پلیٹ فارمز کو نئے اور موجودہ دونوں صارفین کو اطلاع بھیجنا ہوگی، تاکہ صارف خود فیصلہ کرے کہ اس کی ڈیفالٹ فیڈ میں الگورتھم کی تجویز کردہ ذاتی نوعیت کی پوسٹس شامل ہوں یا صرف ان دوستوں اور تخلیق کاروں کا مواد دکھایا جائے جنہیں اس نے خود فالو کیا ہے۔

یہ محض انٹرفیس میں معمولی تبدیلی نہیں ہے۔ جب پلیٹ فارم الگورتھمی سفارش کو ڈیفالٹ بناتے ہیں تو وہ صارف کی جانب سے اپنی خواہش ظاہر کرنے سے پہلے ہی مواد تک رسائی کے دروازے پر قابض ہو جاتے ہیں؛ صارف نے جسے فالو کیا ہے، ضروری نہیں کہ اسے سب سے پہلے وہی دکھائی دے۔ آسٹریلوی تجویز کے تحت ذاتی نوعیت کی سفارشات کے لیے صارف کا فعال انتخاب لازم ہوگا۔ اس کا اصل مطلب فیصلہ سازی کے نقطہ آغاز کو تبدیل کرنا ہے: سفارشی خدمت موجود رہ سکتی ہے، لیکن پلیٹ فارم محض ڈیفالٹ ترتیب کی بنیاد پر اپنی تقسیم کی منطق کو صارف کی مرضی پر فوقیت نہیں دے سکتا۔

بچوں کے تحفظ کے معاملے میں طاقت کا یہ عدم توازن مزید شدید ہو جاتا ہے۔ این پی آر نے آسٹریلوی حکومت کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مجوزہ ”ڈیجیٹل ڈیوٹی آف کیئر“ قانون بچوں کو ایسے مواد سے محفوظ رکھنے کا تقاضا کرے گا جو کھانے کی خرابیوں، عورت دشمن نظریات، فحش مواد، جرم اور خطرناک کرتبوں کو فروغ دیتا ہو یا شدید ذہنی صحت کی پریشانی کا باعث بنتا ہو۔ حکومتی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آن لائن گیمز، ایپس اور مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کو بھی ایسی ڈیزائن خصوصیات سے نمٹنا ہوگا جو لت پیدا کرتی ہوں، خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتی ہوں یا رویے پر دوسرے منفی اثرات ڈالتی ہوں۔

یہ تقاضے ذمہ داری اسی فریق پر ڈالتے ہیں جس کے پاس مصنوعات کے ڈیزائن اور مواد کی تقسیم کی صلاحیت ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیفالٹ فیڈ مقرر کر سکتی ہیں، سفارشی نظام بدل سکتی ہیں اور ایسی خصوصیات بنا سکتی ہیں جو صارفین کو مسلسل مصروف رکھیں۔ اس کے برعکس کسی ایک بچے یا خاندان کے پاس نہ اتنی تکنیکی معلومات ہیں اور نہ پلیٹ فارم کے نظام کو تبدیل کرنے کی طاقت۔ اگر ضابطہ صرف والدین سے نگرانی بڑھانے کا مطالبہ کرے تو پلیٹ فارم رویے کو ڈھالنے والے آلات اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، جبکہ تحفظ کی لاگت کم وسائل رکھنے والوں پر چھوڑ دی جاتی ہے۔

آسٹریلوی حکومت اس ذمہ داری کو ایسے جرمانے کی پشت پناہی بھی دینا چاہتی ہے جو کمپنیوں کے فیصلوں پر واقعی اثر ڈال سکے۔ البانیزی نے کہا کہ قانون کی پابندی نہ کرنے والے پلیٹ فارمز کو بھاری سزاؤں کا سامنا ہوگا۔ این پی آر کے مطابق مجوزہ قانون میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 کروڑ 92 لاکھ آسٹریلوی ڈالر، یعنی تقریباً 7 کروڑ 86 لاکھ امریکی ڈالر، رکھا گیا ہے۔ قانون ابھی منظور نہیں ہوا اور کوئی جرمانہ عملاً عائد نہیں کیا گیا؛ تاہم اتنی بڑی واضح سزا کم از کم یہ پیغام دیتی ہے کہ بچوں کی حفاظت اور صارف کے انتخاب کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رضاکارانہ وعدوں پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔

یہ تجویز بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بارے میں آسٹریلیا کی جاری ضابطہ کاری کا تسلسل ہے۔ این پی آر کے مطابق آسٹریلیا نے گزشتہ دسمبر دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ رکھنا ممنوع ہے۔ اس سال اپریل میں آسٹریلیا کے آن لائن حفاظتی نگران ادارے نے کہا تھا کہ وہ فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے خلاف عدالتی کارروائی پر غور کر رہا ہے، کیونکہ اس کے بقول ان پلیٹ فارمز نے 16 سال سے کم عمر آسٹریلوی بچوں کو اپنی خدمات استعمال کرنے سے روکنے کے لیے پوری کوشش نہیں کی۔ یہ اب بھی نگران ادارے کا الزام ہے جو ممکنہ طور پر عدالتی کارروائی میں جا سکتا ہے؛ اسے عدالت کی جانب سے پلیٹ فارمز کو قانون شکن قرار دیے جانے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

مجوزہ قانون منظور ہوگا یا نہیں، اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا اور پلیٹ فارم اپنی مصنوعات میں کیا تبدیلیاں کریں گے، یہ سب ابھی دیکھنا باقی ہے۔ مگر ذمہ داری کس کی ہے، اس میں ابہام نہیں: جب ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیفالٹ ترتیبات کے ذریعے لاکھوں صارفین کے معلوماتی ماحول کو ترتیب دینے کی طاقت رکھتی ہیں تو وہ ایک طرف یہ اختیار اپنے پاس نہیں رکھ سکتیں اور دوسری طرف بچوں، والدین اور عام صارفین سے یہ توقع نہیں کر سکتیں کہ وہ ڈیزائن سے پیدا ہونے والے خطرات اکیلے برداشت کریں۔ آسٹریلوی تجویز کی سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ وہ پلیٹ فارم کی تجارتی ڈیفالٹ ترتیب کو صارف کا پہلے سے کیا ہوا انتخاب ماننے سے انکار کرتی ہے۔

تبصرے

0

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔