طاقت اور سیاست

برطانوی پابندی کا نشانہ بنائی گئی ذمہ داری: نیتن یاہو حکومت 'قابو سے باہر' کا بہانہ کیوں نہیں چلا سکتی

برطانیہ مقبوضہ علاقوں کی غیر قانونی بستیوں کی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اقدام کے پیچھے سیاسی فیصلہ یہ ہے کہ نیتن یاہو حکومت اپنے اقتداری نظام کے اندر انتہائی دائیں بازو کی طاقتوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ اس اختیار کی ذمہ داری سے غفلت کا نتیجہ فلسطینی عوام بھگتتے ہیں۔

0 مرتبہ دیکھا گیامحفوظ کرنے کے لیے سائن اِن کریں
TRUTH ERA

برطانیہ مقبوضہ علاقوں کی غیر قانونی بستیوں سے آنے والی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہا ہے، اور اس کا نشانہ عام اسرائیلی شہری نہیں بلکہ نیتن یاہو حکومت کی وہ سیاسی ذمہ داری ہے جسے اس نے اپنے اقتداری نظام کے اندر انتہائی دائیں بازو کی طاقتوں کو روکنے میں پورا نہیں کیا۔ ایک حکومت جو قومی اختیار پر قابض ہو اور پر اس الزام ہو کہ اس نے بستیوں کے قائم کنندگان کی سرگرمیوں اور بستیوں کی توسیع کو کھلی چھوٹ دی، تو اس کے لیے "قابو میں ناکامی" کا بہانہ معافی کا جواز نہیں بن سکتا۔

فرانس 24 انگلش کی 8 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملیبینڈ نے پارلیمان میں اسرائیلی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مغربی کنارے میں بستیوں کے قائم کنندگان کی طرف سے کی جانے والی، ان کے بقول "نسلی صفائی" کو نظرانداز کر رہی ہے۔ اسی دوران انہوں نے اعلان کیا کہ برطانوی حکومت "مقبوضہ علاقوں کی غیر قانونی بستیوں سے آنے والی اشیاء" کی درآمد پر پابندی لگائے گی، اور کہا کہ یہ اقدام دوسرے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی سے لاگو کیا جائے گا۔ "نسلی صفائی" ملیبینڈ کا عوامی الزام ہے، اور فرانس 24 کی فراہم کردہ رپورٹ میں مخصوص واقعات یا آزاد تصدیقی مواد نہیں دیا گیا، اس لیے اسے انتساب سے الگ کر کے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں لکھا جا سکتا؛ لیکن برطانوی حکومت کا تجارتی ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ بذات خود ذمہ داری کے سوال کو سفارتی لفاظت سے آگے بڑھا کر اقتصادی تعلقات کی سطح تک لے آیا ہے۔

یہ پابندی غیر قانونی بستیوں کی اشیاء کے برطانوی مارکیٹ تک رسائی کے راستے کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ حکومتی رویے کو پوری اسرائیلی عوام کے برابر نہیں ٹھہراتی، اور نہ ہی ایسی مذمت تک محدود رہتی ہے جس کا حقیقی معاشی نقصان نہ ہو، بلکہ یہ غیر قانونی بستیوں اور برطانوی مارکیٹ کے درمیان تجارتی تعلق کو منقطع کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ فرانس 24 کے مواد میں ابھی یہ واضح نہیں کہ پابندی کب نافذ ہوگی، کون سی اشیاء اس کی زد میں آئیں گی، اور ہم آہنگی میں حصہ لینے والے دوسرے ممالک کون سے ہیں، اس لیے اس کی حقیقی طاقت کا ابھی تعین نہیں ہو سکتا۔

فرانس 24 نے اپنے عنوان میں اس اقدام کو نیتن یاہو کی "ناکامی کا ثبوت" قرار دیا ہے۔ اس چینل نے اے بی سی کے یروشلم میں موجود صحافی جورڈانا ملر کی رائے کا حوالہ دیا، جس میں پابندی کو نیتن یاہو کی حکومت کے اندر انتہائی دائیں بازو کی طاقتوں کو روکنے میں ناکامی سے جوڑا گیا، اور یہ کہا گیا کہ ان طاقتوں نے بستیوں کی توسیع میں حصہ ڈالا۔ چونکہ فرانس 24 کے ساتھ دیے گئے انگریزی خلاصے کے آخری جملے میں نحوی نقص موجود ہے، اس لیے اس فیصلے کو صرف رپورٹ کے عنوان اور سیاق و سباق کی روشنی میں احتیاط سے نقل کیا جا سکتا ہے، اور اسے نیتن یاہو کی طرف سے مخصوص بستی اقدامات کی ذاتی منصوبہ بندی کے نتیجے میں نہیں پھیلایا جا سکتا۔

تاہم، نحوی نقص کو رپورٹ میں پیش کیے گئے اختیاری تعلقات پر پردہ نہیں ڈالنا چاہیے: جس پر تنقید کی جا رہی ہے وہ مداخلت سے قاصر تماشائی نہیں بلکہ حکومتی اختیار پر قابض وزیر اعظم اور ان کا اقتداری ڈھانچہ ہے؛ جسے توسیع کا محرک قرار دیا جا رہا ہے وہ سیاسی ڈھانچے سے الگ ہو کر کام کرنے والا تجریدی گروہ نہیں بلکہ حکومت کے اندر کی انتہائی دائیں بازو کی طاقتیں ہیں۔ اس کے برعکس، مغربی کنارے کے فلسطینی عوام بستیوں کی مسلسل توسیع اور ملیبینڈ کی طرف سے الزام لگائے گئے بستیوں کے قائم کنندگان کے رویے کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس صورتحال کو محض نیتن یاہو کی ذاتی "ناکامی" کے طور پر بیان کرنا بلکہ حکومتی ذمہ داری کو ہلکا کر سکتا ہے۔ ناکامی صلاحیت کی کمی کی سی لگتی ہے، جبکہ روک تھام کی عدم موجودگی سے واضح سیاسی نتائج برآمد ہوتے ہیں: انتہائی دائیں بازو کی طاقتوں کو بستیوں کی توسیع آگے بڑھانے کی گنجائش ملتی ہے، غیر قانونی بستیوں کی اشیاء بیرونی منڈیوں کا رخ کرتی رہتی ہیں، اور فلسطینی لوگ اپنی زمین اور بقا کے حالات بگڑنے کا خطرہ اٹھاتے ہیں۔ اس ذمہ داری کی زنجیر میں "روکنے میں ناکامی" معافی کا لفظ نہیں بلکہ نیتن یاہو حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے والا بنیادی حقیقی فیصلہ ہے۔

تبصرے

0

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔