برطانوی قونصلیت بند کرکے آبادکاری پر پابندی کا جواب دے کر، اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی
برطانیہ، فرانس اور دیگر بارہ ممالک کی جانب سے اسرائیلی آبادکاری کی اشیاء کی درآمد پر پابندی کے بعد، اسرائیلی حکومت نے یروشلم میں برطانوی قونصلیت بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سفارتی جوابی اقدام نے دباؤ ڈالنے والوں کو سزا دی ہے، لیکن آبادکاری کے پھیلاؤ اور بڑھتے ہوئے تشدد کا جواب نہیں دیا۔
اسرائیلی حکومت نے یروشلم میں برطانوی قونصلیت بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مقبوضہ مغربی کنارے کی آبادکاری پر عائد معاشی پابندیوں کو ایک سفارتی تصادم میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ اقدام برطانیہ پر جوابی کارروائی کا بوجھ ڈال سکتا ہے، لیکن ان پابندیوں کے اصل سوال کا جواب نہیں دیتا: آبادکاری کا پھیلاؤ ابھی بھی جاری ہے اور اس سے وابستہ تشدد بڑھ رہا ہے۔
فرانس 24 انگریزی کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ، فرانس اور دیگر دس ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاری کی اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملبینڈ نے اسرائیلی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ آبادکاروں کی طرف سے کیے جانے والے "نسلی صفائی" کے حوالے سے "آنکھیں بند" کیے ہوئے ہے۔ "نسلی صفائی" ملبینڈ کی عوامی تشریح ہے، اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق شدہ نتیجہ نہیں؛ لیکن فرانس 24 انگریزی نے اسی وقت واضح طور پر نشاندہی کی کہ اس درآمدی پابندی کے وقت، آبادکاری کے پھیلاؤ کے گرد تشدد بڑھ رہا ہے۔
یہ پابندی اسرائیلی عوام کے خلاف نہیں بلکہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی اشیاء کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے خلاف ہے۔ بارہ ممالک نے منڈی تک رسائی کو دباؤ کا ذریعہ بنا کر آبادکاری کے پھیلاؤ پر معاشی لاگت عائد کرنے کی کوشش کی ہے۔ فرانس 24 انگریزی کی رپورٹ کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل یروشلم میں برطانوی قونصلیت بند کرے گا۔ رپورٹ میں بند ہونے کا وقت، قانونی انتظامات یا قونصلی خدمات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ نہیں بتایا گیا، اس لیے ان نتائج کا اندازہ لگانا مناسب نہیں؛ جو بات تصدیق سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے جوابی اقدام کے طور پر سفارتی اداروں کا استعمال کرنے کا انتخاب کیا ہے، نہ کہ اس رپورٹ میں تشدد روکنے یا آبادکاری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے اقدامات پیش کیے۔
اس طاقت کی منتقلی سے اسرائیلی حکومت کو فائدہ ہوتا ہے: تنازعہ کا محور مقبوضہ مغربی کنارے کی آبادکاری پالیسی سے ہٹ کر ممالک کے درمیان قونصلی تنازعے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ قونصلیت بند کرنا فوری سفارتی دباؤ پیدا کر سکتا ہے اور برطانیہ کو درآمدی پابندی کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے؛ لیکن مغربی کنارے میں آبادکاری کے پھیلاؤ اور تشدد کا شکار لوگوں کو اس سے زیادہ تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔
فرانس 24 انگریزی نے صرف لائیو رپورٹ کا عنوان اور مختصر متن فراہم کیا ہے، دیگر دس ممالک کے نام نہیں بتائے، اور نہ ہی مخصوص تشدد کے واقعات، تجارتی حجم یا قونصلیت بند کرنے کے عملی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ یہ خالی جگہیں پالیسی کے اثرات کا جائزہ لینے میں رکاوٹ ہیں، لیکن یہ پہلے سے ظاہر ہونے والے ذمہ داری کے تعلق کو تبدیل نہیں کرتیں: کئی ممالک نے آبادکاری کی اشیاء پر پابندی لگائی ہے، اسرائیلی حکومت نے پابندی لگانے والے برطانوی سفارتی ادارے کو جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے۔ جب تک آبادکاری کے پھیلاؤ اور اس کے ساتھ ہونے والے تشدد کا جواب نہیں دیا جاتا، قونصلیت بند کرنا صرف اسرائیلی حکومت کے بیرونی دباؤ کو سزا دینے کی صلاحیت کو ظاہر کر سکتا ہے، لیکن دباؤ کی وجہ کو ختم نہیں کر سکتا۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔